کج بحثی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - اُلٹی سیدھی باتیں، نامعقول گفتگو، فضول باتیں، کٹ حُجتی۔ "تم کج بحثی کرتے ہو، میں تو تم سے یہ پوچھنے والی تھی کہ تم کو دعوت کے لیے کون سا دن پسند ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، اپنا اپنا جہنم، ٣٥٣٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ صفت 'کَج' کے بعد عربی میں ثلاثی مجرد سے مشتق اسم 'بَحْث' بطور لاحقۂ فاعلی لگا کر اس کے بعد 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے مرکب توصیفی بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٧٤١ء کو "دیوانِ شاکرناجی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اُلٹی سیدھی باتیں، نامعقول گفتگو، فضول باتیں، کٹ حُجتی۔ "تم کج بحثی کرتے ہو، میں تو تم سے یہ پوچھنے والی تھی کہ تم کو دعوت کے لیے کون سا دن پسند ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، اپنا اپنا جہنم، ٣٥٣٣ )

جنس: مؤنث